بین الاقوامی سطح پر امن اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم عالمی رہنماؤں کے گروپ ‘دی ایلڈرز’ نے اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ گروپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل ‘فلسطین کو مٹانے’ کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بیان میں سابق آئرش صدر اور ‘دی ایلڈرز’ کی رکن میری رابنسن نے خاص طور پر زور دیا کہ اسرائیل ‘فلسطین کو جسمانی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی طور پر مٹا رہا ہے۔’
میری رابنسن کا یہ بیان عالمی برادری کے لیے ایک گہری تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے معتبر ادارے کی جانب سے آیا ہے جو دنیا بھر میں تنازعات کے حل اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ ‘جسمانی طور پر مٹانے’ سے مراد فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، فلسطینیوں کی بے دخلی اور ان کے گھروں کی مسماری ہو سکتی ہے۔ ‘معاشی طور پر مٹانے’ کا مطلب اقتصادی ناکہ بندی، وسائل پر کنٹرول اور فلسطینی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔
‘ثقافتی اور سیاسی طور پر مٹانے’ کے الزامات فلسطینی شناخت، ورثے اور ان کے ریاستی حقوق کی نفی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ‘دی ایلڈرز’ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال پر فوری توجہ دے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔




