نیتن یاہو کا اعلان: اسرائیل نے غزہ کے لیے ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد کر دیا

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو “حقیقی معنوں میں” غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ یہ بیان غزہ میں جاری جنگ کے بعد علاقے کے انتظامی ڈھانچے اور سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

نیتن یاہو کا یہ دوٹوک موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی موجودگی کو حماس کی عسکری صلاحیتوں کے مکمل خاتمے سے مشروط سمجھتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے میں حماس کی مکمل غیر مسلح کاری کی ضمانت شامل نہیں تھی، جو اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق، غزہ کی پٹی سے فوجیوں کا انخلا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ یہ موقف غزہ میں طویل المدتی امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ حماس کی غیر مسلح کاری ایک بڑا اور متنازعہ مسئلہ ہے جس پر مختلف فریقین کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

  • Related Posts

    اسرائیل انتخابات 2026: سیاسی تعطل، نیتن یاہو کا مستقبل غیر یقینی

    تل ابیب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل 2026 کے عام انتخابات کے بعد ایک نئے سیاسی تعطل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح…

    حوثیوں کا مشرقی سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، اتحادی افواج کا دعویٰ

    اتحادی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مشرقی سعودی عرب کو نشانہ بنا کر داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل کامیابی سے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔