اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد اور دیگر ہائی کورٹس میں نئے ججز کی تعیناتی کی سمری منظور نہ کیے جانے کے خلاف کیس میں صدر مملکت اور وزیرِ اعظم کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ درخواست ایک مقامی وکیل نے دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ججز کی تعیناتی کی سمری کو بلاوجہ تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت ججز کی تعیناتی کا عمل شفاف اور بروقت ہونا چاہیے تاکہ عدلیہ کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ عدالت نے صدر اور وزیرِ اعظم کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر اپنا تفصیلی جواب داخل کرائیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں کہ ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی خالی آسامیوں کے باعث کیسز کے فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے عوام کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کیس کی مزید سماعت آئندہ ماہ کی 15 تاریخ کو ہوگی، جس میں فریقین کے جوابات کا جائزہ لیا جائے گا۔ عدلیہ کی آزادی اور اس کی فعالیت کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے، اور ججز کی بروقت تعیناتی اس کی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کیس کا مقصد آئینی عمل کی پاسداری کو یقینی بنانا اور عدالتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے تاکہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف فراہم کیا جا سکے۔




