تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ اس کے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق، عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری بات چیت کا بنیادی مقصد فوری طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہ ہے اور اس کی بندش یا اس میں رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا دائرہ کار فوری شپنگ کے مسائل سے زیادہ وسیع ہے اور ممکنہ طور پر علاقائی سلامتی اور استحکام کے وسیع تر پہلوؤں پر محیط ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کے بغیر بھی بات چیت کا ایک سلسلہ جاری ہے، جو مستقبل میں کسی بڑے تعطل کو روکنے یا کسی ممکنہ حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، خاص طور پر 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے، جس کے نتیجے میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔




