ایران: امریکہ سے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری

تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ اس کے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری بات چیت کا بنیادی مقصد فوری طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہ ہے اور اس کی بندش یا اس میں رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا دائرہ کار فوری شپنگ کے مسائل سے زیادہ وسیع ہے اور ممکنہ طور پر علاقائی سلامتی اور استحکام کے وسیع تر پہلوؤں پر محیط ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کے بغیر بھی بات چیت کا ایک سلسلہ جاری ہے، جو مستقبل میں کسی بڑے تعطل کو روکنے یا کسی ممکنہ حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، خاص طور پر 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے، جس کے نتیجے میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

  • Related Posts

    اسرائیل انتخابات 2026: سیاسی تعطل، نیتن یاہو کا مستقبل غیر یقینی

    تل ابیب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل 2026 کے عام انتخابات کے بعد ایک نئے سیاسی تعطل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح…

    حوثیوں کا مشرقی سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، اتحادی افواج کا دعویٰ

    اتحادی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مشرقی سعودی عرب کو نشانہ بنا کر داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل کامیابی سے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔