ہالی ووڈ کی ایک فلم ‘دی اوڈیسی’ نے دنیا بھر میں 1.1 ارب ڈالر سے زائد کی کمائی کرکے کرسٹوفر نولن کی سب سے بڑی باکس آفس کامیابیوں میں سے ایک کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس فلم کی شاندار کامیابی کے بعد، دنیا بھر کے سیاحوں میں قدیم دنیا کے تاریخی اور پراسرار مقامات کو دریافت کرنے کی دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فلم ‘دی اوڈیسی’ کی دلکش کہانی اور بصری اثرات نے ناظرین کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب وہ خود ان مقامات کی سیر کرنا چاہتے ہیں جہاں قدیم تہذیبوں کے آثار اور کہانیاں دفن ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف فلم بینوں میں بلکہ عام سیاحوں میں بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے جو تاریخ اور ثقافت سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
ماہرین سیاحت کا کہنا ہے کہ اس فلم نے ایک نئے قسم کے سیاحتی رجحان کو جنم دیا ہے جہاں لوگ محض تفریح کے بجائے علم اور تجربے کی تلاش میں سفر کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے وقتوں میں یونان، مصر، روم اور دیگر قدیم تہذیبوں کے حامل ممالک میں سیاحوں کی آمد میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے ان ممالک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔





