افغانستان میں اے ایف پی نے متعدد ایسے باپوں سے بات کی جن کی بیٹیوں کو پرائمری اسکول سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان تمام باپوں نے مایوسی اور کرب کا اظہار کیا۔ ملک بھر میں اے ایف پی کے انٹرویوز سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے بند دروازوں کے پیچھے کتنا درد اور اذیت چھپی ہوئی ہے، یہاں تک کہ انتہائی مذہبی باپ بھی اس فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
طالبان حکام اس پابندی کو، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد پابندی ہے، اسلامی قانون کی اپنی تشریح پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ تاہم، ایک دیندار باپ نے کہا کہ “آپ کو قرآن میں کبھی یہ نہیں ملے گا کہ تعلیم صرف مردوں کے لیے ہے۔” ایک اور باپ، جس نے طالبان حکومت کی سیکیورٹی بحال کرنے اور بدعنوانی کم کرنے پر تعریف کی، نے کہا کہ وہ “اس پابندی کے لیے کوئی مناسب جواز نہیں ڈھونڈ سکا۔”
ان تمام باپوں نے، جن کی شناخت اے ایف پی نے ظاہر نہیں کی، اس پابندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جذباتی بے چینی کو بیان کیا۔ باپ اپنی ذہین اور مایوس بیٹیوں کی مدد کے لیے کیا کریں، اس فکر میں راتوں کی نیندیں گنوا رہے ہیں۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ایک سروے میں شامل 10 میں سے 9 افغان مردوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے سیکنڈری اسکول جانا اہم ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی نے بیٹی کی تعلیم کی حمایت کو ایک باپ کے لیے “نیک عمل” قرار دیا۔
کچھ مرد اس پابندی کے خلاف احتجاج کرنے پر جیل بھی جا چکے ہیں۔ طالبان حکام کے اقتدار میں آنے کے بعد مارچ 2022 میں لڑکیوں کو سیکنڈری اسکولوں سے روک دیا گیا تھا، اور اسی سال کے آخر میں نوجوان خواتین کے لیے یونیورسٹیاں بھی بند کر دی گئی تھیں۔ طالبان حکومت نے اس پابندی کے بارے میں اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ حکام کا اصرار ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے، لیکن دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔





