اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج معالجے سے متعلق اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیے ہیں۔ یہ مقدمات عمران خان کی قانونی ٹیم اور اہل خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے تھے، جن میں انہیں جیل میں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی اور وکلاء و اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ ان مقدمات کی سماعت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق، ان درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں قید کے دوران بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کے مطابق سہولیات میسر نہیں ہیں، جس میں ان کی صحت کی دیکھ بھال اور قانونی مشاورت کے لیے وکلاء تک رسائی شامل ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرے کہ وہ عمران خان کو ان کے آئینی حقوق کے مطابق سہولیات فراہم کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت مختلف مقدمات میں جیل میں قید ہیں، اور ان کی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ان مقدمات کی سماعت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک قیدی کے طور پر بھی انہیں تمام قانونی اور انسانی حقوق حاصل ہوں، خاص طور پر جب وہ ایک سابق سربراہ حکومت ہوں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ان مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ عدالت اس معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔



