اسلام آباد: 23 مارچ کو ملک بھر میں یومِ پاکستان قومی جوش و جذبے، عقیدت و احترام اور تجدیدِ عہد کے ساتھ منایا گیا۔ یہ دن 1940 کی قراردادِ لاہور کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے حصول کی راہ ہموار کی۔ اس موقع پر ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جن کا مرکزی نقطہ اسلام آباد میں شاندار فوجی پریڈ تھی۔
اسلام آباد میں منعقدہ مرکزی تقریب میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پریڈ میں پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ مختلف صوبوں کی ثقافتی جھلکیوں نے بھی پریڈ کی رونق بڑھائی۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ مساجد میں ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ صدر اور وزیراعظم نے اپنے پیغامات میں قوم کو اتحاد، نظم و ضبط اور ایمان کے اصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یومِ پاکستان کے موقع پر سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں اور علاقوں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز اور ثقافتی پروگرامز منعقد کیے گئے۔ تعلیمی اداروں میں طلباء نے ملی نغمے پیش کیے اور پاکستان کی تاریخ پر تقاریر کیں۔ ان تقریبات کا مقصد نئی نسل کو پاکستان کی جدوجہدِ آزادی اور اس کے بانیوں کی قربانیوں سے روشناس کرانا تھا۔ قوم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔





