معروف امریکی تجریدی مصورہ میری ہیلمین، جو اپنے منفرد اور رنگین تجریدی فن پاروں کے لیے عالمی سطح پر جانی جاتی تھیں، 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات سے فن کی دنیا ایک ایسے باکمال فنکارہ سے محروم ہو گئی ہے جس نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے تجریدی مصوری کو ایک نئی جہت دی۔ ہیلمین کی مصوری میں متحرک رنگوں اور غیر روایتی اشکال کا امتزاج انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا تھا، اور ان کے فن پارے دیکھنے والوں کو ایک منفرد بصری تجربہ فراہم کرتے تھے۔
میری ہیلمین اپنی نسل کی ان خواتین فنکاروں کی ایک نمایاں علامت تھیں جنہیں اپنے کیریئر کے دوران بے شمار رکاوٹوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایسے دور میں جہاں فن کی دنیا میں خواتین کو تسلیم کیا جانا مشکل تھا، ہیلمین نے اپنی لگن اور فنکارانہ بصیرت سے اپنا راستہ بنایا۔ ان کی جدوجہد اور فن کے تئیں ان کا غیر متزلزل عزم کئی ابھرتی ہوئی فنکاروں کے لیے مشعل راہ رہا، اور انہوں نے ثابت کیا کہ عزم و ہمت سے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
فن کی دنیا میں انہیں دیر سے پہچان ملی۔ 2007 میں، جب وہ 67 برس کی تھیں، ان کی پہلی بڑی میوزیم ریٹروسپیکٹو نمائش کا انعقاد کیا گیا جسے ناقدین اور شائقین دونوں کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی۔ اس نمائش نے ان کے طویل اور شاندار کیریئر کو اجاگر کیا اور انہیں وہ مقام دلایا جس کی وہ حقدار تھیں۔ ان کے فن پاروں کو دنیا بھر کے اہم گیلریوں اور عجائب گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے، جہاں وہ آج بھی فن کے شائقین کو متاثر کر رہے ہیں۔




