افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں، اور اس موقع پر وہ جشن منا رہے ہیں۔ ملک پر ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں پاتا۔ یہ پانچ سال افغان عوام کے لیے جبر اور پابندیوں کا دور رہے ہیں، جہاں بنیادی آزادیوں کو سلب کر لیا گیا ہے اور خواتین کے حقوق کو بری طرح پامال کیا گیا ہے۔
اگرچہ طالبان اپنی حکومت کو مستحکم اور مکمل کنٹرول میں ظاہر کرتے ہیں، لیکن اندرونی اور بیرونی خطرات اب ان کی اس ظاہری استحکام کی پرت کو توڑنا شروع کر چکے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں مزاحمت کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جبکہ معاشی بدحالی اور بین الاقوامی تنہائی بھی ان کے لیے بڑے چیلنجز بن کر ابھر رہی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا اور پابندیاں عائد کرنا بھی ان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود، طالبان اپنی پالیسیوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی قسم کی نرمی دکھانے سے گریزاں ہیں۔ وہ اپنے اقتدار کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ بڑھتے ہوئے خطرات اور عوامی بے چینی کے درمیان وہ کب تک اپنی موجودہ گرفت برقرار رکھ پاتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں اور ایک جامع حکومت قائم کریں۔





