امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر پیر کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ وہ آج بعد میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا مقصد خطے میں امن کی کوششوں کو مزید آگے بڑھانا ہے۔
کشنر کا یہ دورہ غزہ میں امن منصوبے کے حوالے سے حماس کے ساتھ ہونے والے نایاب مذاکرات کے بعد ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا اور غزہ کی پٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کرنا تھا۔ حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ اس کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے، اور جیرڈ کشنر اس منصوبے کے مرکزی معماروں میں سے ایک ہیں۔ نیتن یاہو کے ساتھ ان کی ملاقات میں غزہ کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے امن اقدامات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اس دورے کو خطے میں امریکی سفارتی کوششوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔






