نئی دہلی میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت مئی 1999 کی کارگل جنگ کے بارے میں من گھڑت اور خیالی داستانیں گھڑنے پر مسلسل اصرار کر رہی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ ایک مخصوص قوم پرستانہ بیانیے کو فروغ دینے کی بھی ایک مذموم سازش ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ حقائق پر مبنی تاریخ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
بی جے پی حکومت کا یہ بیانیہ اس کے وسیع تر قوم پرستانہ ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد تاریخ کو اپنے سیاسی مقاصد کے مطابق ڈھالنا اور ایک مخصوص نظریے کو تقویت دینا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ماضی کے واقعات کی درست تصویر کشی متاثر ہوتی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ عوام کو گمراہ کرتا ہے اور غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے، جو طویل مدتی تعلقات کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایک ذمہ دار اور سنجیدہ حکومت کو چاہیے کہ وہ حقائق پر مبنی تاریخ کو فروغ دے نہ کہ من گھڑت کہانیوں اور پروپیگنڈے کو۔ تاریخی واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔ یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے حقائق کا احترام کیا جائے اور ماضی کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے، نہ کہ انہیں مزید پیچیدہ بنایا جائے۔ سچائی اور شفافیت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
