بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) نے ایک تاریخی لمحے کا مشاہدہ کیا جب ایک فرانسیسی خاتون نے پہلی بار خلا میں چہل قدمی کی۔ یہ واقعہ فرانسیسی خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور عالمی خلائی مہم جوئی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کا عکاس ہے۔
اس خلائی چہل قدمی کے ساتھ، فرانس نے اپنی پہلی خاتون خلاباز کو خلا میں قدم رکھتے ہوئے دیکھا۔ یہ خلائی چہل قدمی عام طور پر اسٹیشن کی دیکھ بھال، سائنسی تجربات یا نئے آلات کی تنصیب کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سے قبل، فرانس کی جانب سے خلا میں چہل قدمی کرنے والے آخری شخص تھامس پیسکیٹ تھے، جنہوں نے کئی کامیاب مشن انجام دیے۔
یہ تاریخی واقعہ نہ صرف فرانس کے لیے بلکہ عالمی خلائی برادری کے لیے بھی فخر کا باعث ہے۔ یہ خواتین کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا اور خلائی تحقیق کے مستقبل کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، جو مختلف ممالک کے درمیان تعاون کی علامت ہے، مسلسل انسانیت کو خلا کے اسرار کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
