عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں آئندہ بھی بلند رہنے کا امکان ہے، اور اس کی وجہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنی جیبوں پر پڑنے والے بوجھ کے لیے خام تیل کی قیمتوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ایک اور اہم عنصر پر غور کرنا ہوگا جسے ‘کریک اسپریڈ’ (Crack Spread) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عنصر ہے جو آپ کی زندگی کو مزید ناخوشگوار بنا سکتا ہے۔
‘کریک اسپریڈ’ دراصل خام تیل اور اس سے تیار ہونے والی ریفائنڈ مصنوعات جیسے پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ جب یہ فرق زیادہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریفائنریوں کو خام تیل خریدنے اور اسے تیار شدہ ایندھن میں تبدیل کرنے پر زیادہ منافع ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، عالمی سطح پر ریفائنریوں کی محدود صلاحیت اور تیار شدہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب نے اس اسپریڈ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑ رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، لیکن ریفائنریوں کے زیادہ منافع کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں گی۔ یہ صورتحال صارفین کے لیے ایک ناخوشگوار حقیقت ہے جو ان کی روزمرہ کی زندگی اور بجٹ پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ حکومتوں اور پالیسی سازوں کو اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا تاکہ صارفین کو اس اضافی بوجھ سے کچھ ریلیف مل سکے۔

