دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں زندگی کے کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر بچوں کی روزمرہ زندگی پر۔ حالیہ برسوں میں ویڈیو گیمز کا رجحان بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھا ہے، جس نے والدین اور ماہرین تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف بچوں کے تعلیمی معمولات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ان کی سماجی اور جسمانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز پر بے جا وقت صرف کرنے سے بچے حقیقی دنیا سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ میل جول اور کھیل کود سے محروم رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی سماجی مہارتیں (social skills) متاثر ہوتی ہیں۔ طویل عرصے تک اسکرین کے سامنے بیٹھنا آنکھوں کی بینائی، نیند کے معمولات اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنتا ہے، جو موٹاپے اور دیگر صحت کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ مزید برآں، بعض گیمز میں موجود تشدد اور جارحیت بچوں کے رویے پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے والدین کو اپنے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے اور انہیں دیگر تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دینا ان کی سماجی مہارتوں کو مضبوط بنانے میں مزید مدد کر سکتا ہے۔ مشترکہ خاندانی سرگرمیاں، بیرونی کھیل اور مطالعہ جیسی عادات بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ یہ نہ صرف انہیں صحت مند طرز زندگی اپنانے میں مدد دیں گی بلکہ انہیں ایک متوازن شخصیت کے مالک بننے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔


