تہران/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اختلافات کے باوجود ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جبکہ ایرانی رہنماؤں نے دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور زور دیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز سے مرٹل بیچ، جنوبی کیرولائنا روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایک معاہدہ چاہتا ہے، لیکن وہ ابھی تک ‘درست’ معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کو اس معاہدے کے لیے تیار ہونا پڑے گا جو ان کے لیے بہترین ہو۔
دوسری جانب، ایرانی حکام نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری اور وقار کو مجروح کرے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے کشیدگی عروج پر ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اختلافات کسی حل کی طرف بڑھیں گے یا مزید شدت اختیار کریں گے۔


