اسلام آباد: وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے تمام ٹرینوں کے بیڑے کو ایک سال کے اندر مکمل طور پر اپ گریڈ کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے جس کے لیے وسیع وسائل اور منصوبہ بندی درکار ہے۔ وزیر موصوف نے یہ بیان ریلوے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
وزیرِ ریلوے نے مزید بتایا کہ ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انفراسٹرکچر کی خستہ حالی، مالیاتی رکاوٹیں اور تکنیکی چیلنجز اس عمل میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت ریلوے کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن یہ کام مرحلہ وار اور حقیقت پسندانہ ٹائم لائن کے تحت ہی مکمل کیا جا سکتا ہے تاکہ معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
محمد حنیف عباسی نے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور مال برداری کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے کئی منصوبے زیرِ غور ہیں۔ ان منصوبوں میں نئے انجنوں کی خریداری، پرانی بوگیوں کی مرمت و تجدید، اور سگنلنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان ریلوے ایک جدید، محفوظ اور منافع بخش ادارہ بن کر ابھرے گا جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔




