حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ماہ کے دوران ملکی درآمدات میں 19 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے تجارتی خسارہ 26 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ صورتحال معیشت کے لیے تشویشناک سمجھی جا رہی ہے اور حکومتی حلقوں میں اس پر غور و خوض جاری ہے۔
درآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ غذائی اجناس، گاڑیوں، ٹرانسپورٹ سامان اور مشینری سمیت مختلف اشیا کی درآمد میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی اجناس کی درآمد میں اضافہ ملک میں خوراک کی قلت یا مقامی پیداوار میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ گاڑیوں اور مشینری کی زیادہ درآمد صنعتی سرگرمیوں میں اضافے یا صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کر سکتی ہے۔ تاہم، اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تجارتی خسارے میں یہ اضافہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اور روپے کی قدر پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معاشی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ درآمدات کو کنٹرول کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک درآمدی بل کو کم نہیں کیا جاتا اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا، تجارتی خسارے کا یہ رجحان ملکی معیشت کے لیے چیلنج بنا رہے گا۔ حکومت کی جانب سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔


