اسلام آباد کے معروف پمز اسپتال میں حالیہ آتشزدگی کے واقعے نے جہاں نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا المناک سبب بنا، وہیں ریسکیو ذرائع نے اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، جس وارڈ میں آگ لگی، وہاں آگ بجھانے کے بنیادی آلات اور حفاظتی اقدامات انتہائی ناقص تھے یا سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔
ریسکیو حکام نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسپتال کے متعلقہ شعبے میں فائر الارم سسٹم غیر فعال تھا اور آگ بجھانے والے سلنڈر یا تو خالی تھے یا ان کی مدت میعاد ختم ہو چکی تھی۔ مزید برآں، عملے کو آگ سے نمٹنے کی تربیت کا فقدان تھا اور ہنگامی اخراج کے راستے بھی واضح نہیں تھے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اسپتال انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد، حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد ذمہ داران کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس سفارشات پیش کرنا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔




