بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے حوالے سے اپنی تازہ ترین کنٹری رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ معاشی چیلنجز پر قابو نہ پایا گیا تو عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سماجی و اقتصادی استحکام متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بلند افراط زر، بڑھتے ہوئے قرضوں اور کمزور بیرونی کھاتوں جیسے سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات کے باوجود، عالمی سطح پر تیل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور اندرونی معاشی دباؤ کے باعث مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال سے ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے پر اس کا بوجھ زیادہ پڑے گا۔
آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھیں اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کریں۔ رپورٹ میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس بیس میں وسعت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سفارشات پر عمل درآمد سے ہی پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے اور مہنگائی کے بوجھ کو کم کر سکتا ہے، تاکہ ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔







