پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن شعبان کے تحت صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ان جاری کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ آپریشن بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ کارروائیاں خاص طور پر بلوچستان کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں کی جا رہی ہیں جہاں دہشت گردوں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ آپریشن شعبان کا بنیادی مقصد ان عناصر کا خاتمہ کرنا ہے جو صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو اس دوران اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جس سے صوبے میں دہشت گردی کی کمر توڑنے میں مدد ملی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن شعبان اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ سیکیورٹی فورسز نے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ان کا عزم ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان کارروائیوں سے نہ صرف مقامی آبادی میں تحفظ کا احساس بڑھا ہے بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔







