گوجرانوالہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پاک فوج سے متعلق ان کی ایک حالیہ تقریر پر مقدمہ درج کرانے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت میں دائر کی گئی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں ریاستی اداروں کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال کی ہے۔
درخواست گزار، جس کی شناخت ایک مقامی شہری کے طور پر ہوئی ہے، نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف بغاوت اور ریاستی اداروں کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر نے عوام میں اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے اور یہ ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔ عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور جلد ہی اس پر کارروائی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن حالیہ عرصے میں حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف اپنی سخت گیر تقاریر کے باعث خبروں میں رہے ہیں۔ ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے موجودہ حکومت کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ اس درخواست کے دائر ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ اقدام سیاسی انتقام ہے یا قانون کی بالادستی کا تقاضا۔ عدالتی کارروائی کے بعد ہی اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔







