امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے تارکین وطن کے خلاف اپنی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی لاتے ہوئے گزشتہ پانچ دنوں میں 10,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایجنسی کی جانب سے ایک نئے اور خاموش کریک ڈاؤن کی نشاندہی کرتے ہیں جس نے تارکین وطن کی کمیونٹیز میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
آئی سی ای کے حکام کے مطابق، ایجنسی نے اپنی روزانہ گرفتاریوں کی تعداد کو دوگنا کر دیا ہے، لیکن یہ کارروائیاں گزشتہ سال کی بڑی شہری مہمات کے برعکس کسی بڑے شور شرابے یا عوامی اعلانات کے بغیر کی جا رہی ہیں۔ اس خاموش حکمت عملی کا مقصد شاید عوامی ردعمل سے بچنا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں تارکین وطن کی آبادیوں میں بے یقینی اور تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
تارکین وطن کی تنظیموں اور وکلاء کا کہنا ہے کہ اس اچانک اور خاموش کریک ڈاؤن نے کمیونٹیز میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے نکلنے، کام پر جانے یا بچوں کو اسکول بھیجنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ انہیں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ لاحق ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی تارکین وطن کو مزید زیر زمین جانے پر مجبور کرے گی، جس سے ان کے حقوق کا تحفظ مزید مشکل ہو جائے گا۔



