واشنگٹن/تہران – امریکہ نے تہران پر آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی مال بردار جہاز پر حملے کا الزام عائد کرنے کے بعد ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ حملے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، یہ فوجی کارروائی 26 جون کو اس حملے کے جواب میں کی گئی جسے امریکہ نے ایران کی جانب سے کیا گیا تھا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد، تہران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں اور اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
