ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، طویل عرصے سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ کا مرکز رہی ہے۔
اندرابی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں استحکام اور بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا علاقائی اور عالمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان کے بقول، اگر دونوں ممالک اس حساس علاقے میں مشترکہ مفادات اور خدشات کو سمجھتے ہوئے کسی قسم کی پیش رفت دکھاتے ہیں، تو یہ اعتماد سازی کا ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کے بعد سے، جس کے نتیجے میں خطے میں متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی مثبت پیش رفت سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کا امکان روشن ہو گا بلکہ یہ خلیج فارس میں مجموعی طور پر کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام اور علاقائی پراکسی جنگیں شامل ہیں۔ ترجمان کے بیان کو ایک ایسے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو سفارتی حل کی جانب ایک نئی امید پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریقین لچک کا مظاہرہ کریں۔






