اسرائیل میں طویل عرصے سے جاری تنازع نے سیاسی اختیار اور فوجی فیصلے کے درمیان تعلقات کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق تھا جو دہائیوں سے ملک کے دفاعی اور حکومتی ڈھانچے کی بنیاد رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
روایتی طور پر، اسرائیلی حکومت اور فوج کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ موجود تھا جہاں سیاسی قیادت پالیسی سازی کرتی تھی جبکہ فوج ان پالیسیوں پر عمل درآمد اور دفاعی حکمت عملی کی ذمہ دار ہوتی تھی۔ اس معاہدے نے ملک کو کئی جنگوں اور بحرانوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کی تھی۔ تاہم، حالیہ طویل تنازعات اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز نے اس نازک توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ فوجی قیادت کے فیصلوں پر سیاسی مداخلت اور عوامی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں اداروں کے درمیان اعتماد میں کمی آئی ہے۔
اس دراڑ کے نتیجے میں، اہم دفاعی اور سیکیورٹی فیصلوں میں تاخیر اور ابہام پیدا ہو سکتا ہے، جو ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ اسرائیل کے اندرونی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر اس کی پوزیشن کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔ حکومت اور فوج کے درمیان نئے سرے سے اعتماد سازی اور کردار کی واضح تعریف وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔





