اسرائیلی افواج نے ایک فلسطینی شخص فاروق رمضان کے گھر کو مسمار کر دیا ہے، جو جولائی میں آباد کاروں کے حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فورسز کو گھر کو دھماکے سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے میں کی گئی، جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں کا ایک اور مظہر ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی یہ پالیسی طویل عرصے سے جاری ہے، جسے اکثر سکیورٹی وجوہات کا جواز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کو اجتماعی سزا قرار دیتی ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو بے گھر کرتی ہیں بلکہ علاقے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھاتی ہیں۔
فاروق رمضان کے گھر کی مسماری کا یہ واقعہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی فورسز نے ایک دھماکے کے ذریعے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر فلسطینیوں کے حقوق کے احترام کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ایسی کارروائیاں جاری ہیں۔




