اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں اپارٹمنٹس کے مالکان کو بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان سینکڑوں رہائشیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جو طویل عرصے سے اپنے گھروں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے۔ عدالت نے یہ حکم ایک عبوری ریلیف کے طور پر جاری کیا ہے، جس سے مالکان کو فوری طور پر بے دخلی کے خطرے سے بچا لیا گیا ہے۔
عدالت عالیہ نے یہ حکم ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب گزشتہ ماہ ہی اس نے لیز کی منسوخی کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اپارٹمنٹس کے خریداروں کے پاس قانونی طور پر ملکیت کے حقوق موجود نہیں ہیں، جس کے بعد مالکان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبہ طویل عرصے سے مختلف قانونی تنازعات کا شکار رہا ہے، جس میں زمین کی لیز، تعمیراتی معاہدوں اور حکومتی اداروں کے درمیان اختیارات کے مسائل شامل ہیں۔ موجودہ حکم نامہ اگرچہ مالکان کو فوری طور پر بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم ملکیت کے حقوق سے متعلق بنیادی قانونی پیچیدگیاں بدستور برقرار ہیں۔ اس معاملے میں مزید عدالتی کارروائی اور قانونی بحث متوقع ہے تاکہ اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔




