اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے اس پیش رفت کی تصدیق کی، جس سے خطے میں دیرینہ کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور جوہری معاہدے کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے انٹرویو میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان پس پردہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان اس مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ وسیع تر عالمی امن کے لیے بھی سود مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات جلد کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچیں گے جس سے خطے میں تناؤ میں کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، خاص طور پر 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ایران پر دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے تناؤ میں اضافہ ہوا تھا۔ خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور سفارتی حل کی تلاش جاری ہے۔ ایک ممکنہ سمجھوتہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تنازعات کو کم کر سکتا ہے بلکہ یمن، شام اور عراق جیسے خطوں میں پراکسی جنگوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اس پیش رفت کو بڑی امید سے دیکھ رہی ہے۔





