گزشتہ ہفتے صومالی قزاقوں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دور رس اثرات کا نتیجہ ہے۔ صرف چار دنوں کے اندر دو بحری جہازوں کو اغوا کیا گیا، جس سے جنوری سے اب تک حملوں کا شکار ہونے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 13 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال عالمی بحری تجارت کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر ابھری ہے۔
بحری امور کے ماہرین کے مطابق، خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بین الاقوامی بحری افواج کی توجہ کو اس خطے کی جانب مبذول کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، صومالی قزاقوں نے بحر ہند کے وسیع علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جہاں نگرانی میں کمی آئی ہے۔ یہ رجحان عالمی سپلائی چین اور بحری جہاز رانی کے لیے سنگین مضمرات رکھتا ہے۔
بحری جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں سے عالمی تجارت میں خلل پڑنے اور جہاز رانی کمپنیوں کے لیے انشورنس کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ صومالی قزاقی کے اس نئے عروج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی بھی ایک اہم عنصر ثابت ہو سکتی ہے تاکہ بحری افواج دوبارہ قزاقی کے خلاف اپنی توجہ مرکوز کر سکیں۔






