سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر امریکہ کے کنٹرول کے ایک ‘تاریخی’ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کو اپنی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جو امریکہ کی توانائی کی خودمختاری کو مزید مضبوط کرے گا۔
دوسری جانب، وینزویلا کی عبوری صدر نے اس غیر معمولی معاہدے کو اپنے ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے وینزویلا کو درپیش شدید اقتصادی چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ملک میں استحکام آئے گا۔ عبوری صدر نے اس معاہدے کو وینزویلا کے عوام کے لیے ایک نئی امید کی کرن قرار دیا ہے۔
وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک شدید اقتصادی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس غیر معمولی پیش رفت کے عالمی توانائی منڈی اور وینزویلا کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ وینزویلا کی معیشت کو نئی سمت دے سکتا ہے، تاہم اس کے سیاسی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔






