امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا تو آئندہ ہفتے اس کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے، جہاں امریکہ کی جانب سے تازہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں، ایران نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ وہ مزید تجارتی راستوں کو بند کر سکتا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں پہلے ہی سے حالات کشیدہ ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔





