یوکرین کے چار مختلف علاقوں میں روسی افواج کے تازہ حملوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، ان حملوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور رہائشی عمارتوں سمیت شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، یوکرین نے بحیرہ اسود میں روس کے اہم بحری اثاثوں پر جوابی کارروائی کی ہے۔ کیف کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرہ اسود میں کم از کم 20 روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کا مقصد روس کی فوجی سپلائی لائنز اور بحری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
یہ حملے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعے میں ایک نئی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بحیرہ اسود دونوں ممالک کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک علاقہ ہے، اور یہاں ہونے والے حملے جنگ کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت خطے میں مزید کشیدگی اور انسانی بحران میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔





