ایران ایٹمی معاہدے کی بحالی کے لیے نگرانی قبول کرنے پر آمادہ، وینس کا دعویٰ

وینس کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک حتمی جوہری معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں ایٹمی نگرانی کو قبول کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر جاری بین الاقوامی مذاکرات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو عالمی طاقتوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

ایٹمی نگرانی کا مطلب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے انسپکٹرز کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی دینا اور اس کی سرگرمیوں کی تصدیق کرنا ہے۔ یہ مغربی طاقتوں کا ایک دیرینہ اور کلیدی مطالبہ رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف گامزن نہیں ہے۔

اس اقدام کو 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو 2018 میں امریکہ کے اس سے دستبردار ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے سکتا ہے اور تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔

  • Related Posts

    بھارت: الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے ‘کاکروچ’ رہنما رہا

    بھارت کے دارالحکومت دہلی میں غیر مجاز احتجاجی مقام میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو سرکردہ رہنماؤں، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو جیل سے رہا…

    میٹا پر صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے بارے میں ‘جھوٹ’ بولنے پر 25 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ

    میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسی مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی ہے، کو صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے بارے میں گمراہ کن بیانات…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔