سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد، ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس نے جوہری معائنہ کاروں کے حوالے سے کوئی ‘نئے وعدے’ نہیں کیے۔ یہ بیان ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں ایران پر جوہری پروگرام سے متعلق مزید پابندیاں قبول کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنی موجودہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری جاری رکھیں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں جوہری معائنہ کاروں کے حوالے سے کسی بھی ‘وینس کے دعوے’ کو مسترد کیا جاتا ہے، اور ایران اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹ کر کوئی اضافی وعدہ نہیں کرے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن کسی بھی دباؤ میں آ کر غیر ضروری شرائط قبول نہیں کرے گا۔ یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔
ایک جانب جہاں امریکہ نے ایران پر عائد تیل کی کچھ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے، وہیں دوسری جانب ایران کا یہ دوٹوک موقف عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے مزید محتاط نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کو سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم ایران کے اس بیان نے مذاکراتی عمل میں نئی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔



