پاکستان میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے گرانٹس کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث مکمل ہونے کے بعد اب اس کی منظوری کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بجٹ عوام دوست ہے اور ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کو ‘عوام دوست’ اور ‘معاشی استحکام’ کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ نئے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حکومتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ وہ اپوزیشن کی شدید تنقید کے باوجود بجٹ کو آسانی سے منظور کروا لے گی۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) نے بجٹ کو ‘آئی ایم ایف کے حکم پر تیار کردہ’ اور ‘عوام پر بوجھ’ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ توقع ہے کہ قومی اسمبلی 28 جون تک بجٹ کی منظوری دے دے گی، جس کے بعد ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومتی حکمت عملی کا امتحان شروع ہو جائے گا۔





