12 جنوری کو جب ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی دوپہر میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے تو ان کا فون بند تھا۔ وہ نہ تو کسی کو کال کر سکتے تھے اور نہ ہی کوئی پیغام وصول کر سکتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر سوچا کہ شاید یہ نیٹ ورک میں کسی خرابی کی وجہ سے ہے، لیکن جلد ہی انہیں ایک غیر متوقع اور پریشان کن حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
چند گھنٹوں بعد، جب فرحان چشتی نے اپنے فون کو چارج کیا اور نیٹ ورک بحال ہوا، تو انہیں اپنے بینک کی جانب سے متعدد پیغامات موصول ہوئے جن میں ان کے اکاؤنٹ سے بڑی رقوم کی منتقلی کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ ان کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا کیونکہ انہوں نے ایسی کوئی ٹرانزیکشن نہیں کی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کے بائیو میٹرک ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالی گئی تھی۔ یہ واقعہ بائیو میٹرک فراڈ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی ایک تازہ مثال تھا، جس نے ملک میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فرحان چشتی اکیلے نہیں تھے جو اس فراڈ کا شکار ہوئے۔ اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں، ایک اور رکن قومی اسمبلی کو بھی اسی طرح کے بائیو میٹرک فراڈ کا سامنا کرنا پڑا جہاں ان کے فون کو غیر فعال کر کے ان کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالی گئی۔ ان واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ کس طرح فراڈ کرنے والے گروہ جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے عام شہریوں اور حتیٰ کہ عوامی نمائندوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بائیو میٹرک تصدیق کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور صارفین کی ذاتی معلومات کو محفوظ بنانا کتنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ میں اکثر سم سویپنگ (SIM Swapping) اور جعلی بائیو میٹرک ڈیوائسز کا استعمال کیا جاتا ہے، جہاں صارف کی سم کو غیر قانونی طور پر کسی اور کے نام پر جاری کروا کر یا ان کے فنگر پرنٹس کا غلط استعمال کر کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ان واقعات کے بعد، بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط کریں اور صارفین کو ایسے فراڈ سے بچنے کے لیے آگاہی فراہم کریں۔





