اسلام آباد: حکومت نے بیرون ملک تربیت اور ڈیپوٹیشن سے واپس آنے والے سرکاری افسران کے لیے نئے اور سخت قوانین متعارف کرائے ہیں، جس کا مقصد احتساب کو یقینی بنانا اور ان مواقع کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری مشینری میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔
نئے قواعد و ضوابط کے تحت، عدم تعمیل کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو بڑے پیمانے پر مالیاتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ماضی میں مالی بے ضابطگیاں اور جوابدہی کا فقدان دیکھا گیا تھا۔ اب سرکاری افسران کو اپنی بیرون ملک تعیناتیوں کے دوران اور بعد میں مالی معاملات میں زیادہ شفافیت دکھانا ہوگی۔
حکومت نے سروس چھوڑنے کی تعریف اور اس کی حدود بھی واضح کر دی ہیں۔ ایسے افسران جو بیرون ملک تربیت یا ڈیپوٹیشن کے بعد واپس نہیں آتے یا اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں، انہیں سروس سے برخاست سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ سرکاری وسائل کا استعمال ملک کی خدمت کے لیے کیا جائے اور افسران اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہ کریں۔





