ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جدید فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ خلیجی خطے میں پیش آیا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ڈرون نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، آزاد ذرائع سے اس واقعے کی فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران نے امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کیا تھا۔ MQ-9 ریپر ڈرون اپنی نگرانی اور حملے کی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے، اور اس کا مار گرایا جانا ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے کے بعد عالمی برادری کی نظریں امریکہ اور ایران کے ردعمل پر مرکوز ہیں تاکہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکے۔





