اسلام آباد: پاکستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 60 دن کے اندر ملک بھر میں تمام ادویات پر ’بارکوڈ سسٹم‘ متعارف کرا دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ ادویات تک رسائی حاصل ہو سکے۔
وفاقی وزیر صحت نے مزید بتایا کہ یہ بارکوڈ سسٹم ادویات کی تیاری سے لے کر صارفین تک پہنچنے کے پورے عمل کو ٹریک کرنے میں مدد دے گا۔ ہر دوا پر ایک منفرد بارکوڈ ہوگا جسے سکین کرکے اس کی اصلیت، تیاری کی تاریخ، میعاد ختم ہونے کی تاریخ اور دیگر اہم معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔ اس نظام سے نہ صرف جعلی ادویات کی روک تھام ہوگی بلکہ ادویات کی سپلائی چین میں شفافیت بھی آئے گی اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
حکومت کا یہ فیصلہ عوامی صحت کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت شہریوں کو صحت مند زندگی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ اس سنگین جرم کا مکمل طور پر سدباب کیا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان کے صحت کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔





