پاکستان کے ایک مدرسے میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 12 سالہ طالب علم مبینہ طور پر اپنے قاری کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گیا۔ اس دلخراش واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق، طالب علم کی موت کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے موت کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں گی، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، طالب علم کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم قاری کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملزم کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور اسے اس سنگین جرم کی سزا دلوائی جائے گی۔ سول سوسائٹی اور والدین کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔





