امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کوشنر نے حماس کے ساتھ اپنی دوسری غیر معمولی ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ غزہ کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں تعطل کا شکار امن منصوبہ غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے۔
کوشنر کی حماس کے رہنماؤں کے ساتھ یہ ملاقات، جو کہ امریکی حکام اور حماس کے درمیان ایک نایاب اور ریکارڈ شدہ رابطہ ہے، خطے میں امن کی کوششوں کے حوالے سے ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے طویل عرصے سے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، جس کی وجہ سے اس طرح کے براہ راست رابطے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امن کا منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، اور کوشنر کی یہ کوششیں اس جمود کو توڑنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہیں۔ تاہم، غزہ کی پٹی کی پیچیدہ صورتحال اور فریقین کے درمیان گہرے اختلافات کے پیش نظر، کسی بھی ٹھوس پیش رفت کے امکانات ابھی بھی غیر یقینی ہیں۔





