یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں ایک فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ سعودی عرب کے خلاف ان کی جوابی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ تاہم، انہوں نے حملے کی مخصوص تاریخ، ہدف کی نوعیت، یا اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی و مالی نقصان کی فوری تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری خانہ جنگی اپنے نویں سال میں داخل ہو چکی ہے، جس میں حوثی باغی سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ حوثی باغی اکثر سعودی عرب کے اندر فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں کا جواب ہے۔ ماضی میں بھی ایسے حملوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں جن کا مقصد سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس تازہ حملے کے دعوے پر فوری طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ماضی میں سعودی حکام نے اکثر ایسے حملوں کو ناکام بنانے یا ان کے محدود اثرات کو ظاہر کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری یمن میں جاری تنازعے اور سعودی عرب پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے، اور فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی ممکنہ اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔






