دمشق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، شام کے دارالحکومت میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون شام کے دورے پر تھے اور شامی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صدر بشار الاسد نے صدارتی محل میں ان کا استقبال کیا۔
دھماکوں کی نوعیت اور اہداف کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم، یہ واقعہ شام میں جاری عدم استحکام اور سیکیورٹی چیلنجز کی یاد دہانی کراتا ہے، جہاں کئی سالوں سے خانہ جنگی اور مختلف عسکری گروہوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی برادری شام کے بحران کے حل کے لیے مختلف کوششیں کر رہی ہے۔ دمشق میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران ہونے والے یہ دھماکے سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ حکام نے دھماکوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔




