آج سے دس سال قبل انسانیت کی خدمت کا ایک عظیم باب بند ہوا جب عبدالستار ایدھی اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ ان کی رحلت کو ایک دہائی گزر چکی ہے، لیکن ان کا چھوڑا ہوا ورثہ، ان کے اصول اور انسانیت کی خدمت کا بے لوث جذبہ آج بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایدھی صاحب نے اپنی پوری زندگی بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و ملت، ہر ضرورت مند کی مدد کے لیے وقف کر دی، اور اسی وجہ سے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کی علامت بن کر ابھرے۔
ایدھی صاحب نے ایک چھوٹی سی ایمبولینس اور چند روپے سے اپنے مشن کا آغاز کیا، اور اپنی انتھک محنت اور دیانت داری سے ایدھی فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیموں میں سے ایک بنا دیا۔ ان کی خدمات میں ایمبولینس سروس، یتیم خانے، لاوارث بچوں کے لیے جھولے، بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں، مفت ہسپتال، اور امدادی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان کا مشہور قول “میرا مذہب انسانیت ہے” ان کے فلسفے کا نچوڑ تھا، جس نے انہیں ہر قسم کی تفریق سے بالا تر ہو کر خدمت کرنے پر اکسایا۔ وہ سادگی اور عاجزی کی مثال تھے، اور ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ ایک فرد بھی اپنی لگن اور عزم سے معاشرے میں انقلاب لا سکتا ہے۔
آج جب دنیا مختلف چیلنجز جیسے غربت، عدم مساوات، سماجی ناانصافی اور نفرت کا شکار ہے، عبدالستار ایدھی کا پیغام اور ان کا ورثہ روشنی کا مینار ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ترقی اور امن صرف انسانیت کی خدمت، ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور بلا امتیاز مدد سے ہی ممکن ہے۔ ان کی رحلت کے دس سال بعد بھی، ان کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور ان کے مشن کو جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ایدھی صاحب کا ورثہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر اور پرامن معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔




