اسلام آباد: پاکستان کے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سفر کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک گاڑی نے ان کی گاڑی کو بائیں جانب سے کراس کیا اور ایک نوجوان نے پانچ فائر کیے۔
عطا تارڑ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک گاڑی نے بائیں جانب سے ان کی گاڑی کو اوورٹیک کیا اور اس میں سوار ایک نوجوان نے پانچ گولیاں فائر کیں۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک سنگین نوعیت کا حملہ قرار دیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فوری کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملزم کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں۔ ڈی آئی جی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





