تہران: ایران نے ایک بار پھر فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور تہران مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی تک اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جاری تنازعہ اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایران طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا حامی رہا ہے اور اس نے ہمیشہ اسرائیل کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
ایران کے اس دوٹوک موقف کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف فلسطینی دھڑوں نے اس حمایت کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں دوسری جانب مغربی ممالک اور اسرائیل نے اسے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے والا قرار دیا ہے۔ تہران کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں، اور ایران کا یہ موقف ان کوششوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔





