انقرہ: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترکی آمد کے ساتھ ہی، انقرہ کی نظریں F110 فائٹر جیٹ انجنوں کے حصول پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی اپنے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے جنگی طیاروں کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ترکی طویل عرصے سے اپنے مقامی فائٹر جیٹ پروگرام، جسے اب “کان” (KAAN) کے نام سے جانا جاتا ہے، کے لیے انجنوں کی تلاش میں ہے۔ امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے تیار کردہ F110 انجن، جو F-16 جیسے طیاروں میں استعمال ہوتے ہیں، ترکی کے لیے ایک اہم آپشن ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں، ترکی کو روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے بعد امریکہ کے F-35 فائٹر جیٹ پروگرام سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد ترکی اپنی دفاعی ضروریات کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو مستقبل میں دوبارہ صدارت کے امیدوار ہو سکتے ہیں، کا یہ دورہ دفاعی معاہدوں پر بات چیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ F110 انجنوں کا حصول ترکی کے دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم کامیابی ہو گی اور اس سے اس کے مقامی جنگی طیارے کی ترقی میں تیزی آئے گی۔ تاہم، اس معاہدے کو امریکی کانگریس کی منظوری سمیت کئی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیٹو کے اندر ترکی کا کردار اور علاقائی استحکام کے لیے اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔





