یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ صدر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ شہر اب بھی یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے اور روسی دعوے بے بنیاد ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی محاذ پر لڑائی میں شدت آئی ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے مختلف علاقوں پر قبضے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
کوستیانتینیوکا ڈونیٹسک ریجن میں واقع ایک اہم اسٹریٹجک شہر ہے جو مشرقی محاذ پر جاری شدید لڑائی کے پیش نظر کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر پر قبضہ روس کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہ روسی افواج کو مزید گہرائی میں پیش قدمی کرنے اور دیگر اہم شہروں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یوکرین کی دفاعی حکمت عملی میں اس شہر کا دفاع انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ روسی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
مشرقی یوکرین میں کئی ماہ سے شدید لڑائی جاری ہے، جہاں روسی افواج نے کئی علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر زیلنسکی نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یوکرین اپنی سرزمین کے ہر انچ کا دفاع کرے گا اور کسی بھی روسی قبضے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ یوکرین مضبوطی سے کھڑا ہے اور روسی پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یوکرین کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔





