حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ملک کی معیشت پر پڑنے والے مالیاتی بوجھ کو کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، جس کے بعد صارفین کو ایندھن کی مکمل مارکیٹ قیمت ادا کرنا ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ماضی میں، حکومت صارفین کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ایندھن پر بھاری سبسڈی دیتی تھی، جس سے قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑتا تھا۔ تاہم، اب جبکہ عالمی سطح پر قیمتیں مستحکم ہوئی ہیں اور کچھ حد تک کم بھی ہوئی ہیں، حکومت نے سبسڈی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی ماہرین نے اس فیصلے کو حکومت کے مالیاتی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سبسڈی کا خاتمہ حکومت کو اپنے وسائل کو دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ تاہم، کچھ حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونے کی صورت میں صارفین پر براہ راست بوجھ پڑے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام عالمی مالیاتی اداروں کے مطالبات سے بھی ہم آہنگ ہے جو طویل عرصے سے سبسڈی کے خاتمے پر زور دیتے رہے ہیں۔



